Select Menu

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Dilchasp

Tanz-o-Mazah

Misc

Technology

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی








برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی۔ بی بی سی لے مطابق برطانیہ کے بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے اعلان کیا ہے کہ 20 کے قریب بلا ڈرائیور گاڑیاں ملٹن کینز کے مرکز میں مخصوص سڑکوں پر چلا کریں گی۔





منصوبے کے مطابق 2017 کے وسط میں سو کے قریب مکمل طور پر خودکار کاریں شہر میں کام کر رہی ہوں گی جو پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ راستوں پر چلا کریں گی جن میں ٹکراؤ سے بچنے کے لیے سنسرز لگے ہوئے ہوں گے۔






بغیر ڈرائیور کے ان گاڑیوں میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور یہ بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ ان گاڑیوں میں ایسی سکرینیں لگی ہوں گی جن پر مسافر انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے اور اپنی ای میل وغیرہ چیک کر سکیں گے۔ ابتدا میں ان گاڑیوں پر مسافر سوار ہو کر ریلوے سٹیشن سے شہر کے مرکز تک کا فاصلہ طے کرے گا جو ایک میل کی چڑھائی ہے اور اس پر پیدل بیس منٹ لگتے ہیں.





نسان، ٹویوٹا اور وولوو جیسی دنیا کی بڑی کاریں بنانے والی کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے کاریں بنانے پر تحقیق کر رہی ہیں۔اگست میں وولوو نے ایک ایسی کار کا تجربہ کیا تھا جو دو بٹن دبانے پر ڈرائیور سے بریک، انجن اور سٹیئرنگ کا اختیار لے لیتی ہے۔


منٹوں میں چارج اور ہفتوں چلنے والی موبائل فون بیٹریاں







پاکستان میں لوڈشیڈنگ جہاں بہت سے شعبوں میں مالی نقصانات کاسبب بن رہی ہے وہیں یہ رابطے کے ذریعے، موبائل فون پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ اکثر موبائل صارفین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنے موبائل فون کی بیٹری کو اچھی طرح چارج نہیں کر پاتے اور یوں وہ اپنے کاروباری اور گھریلو روابط سے کچھ وقت کےلئے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ یوپی ایس اور شمسی توانائی جیسی متبادل ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں لیکن کم پاور اور چارجنگ کا دورانہ بھی مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اب اس مسئلے کا بھی حل آنے والا ہے۔امریکی سائنسدانوں نے نئے تجربوں کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ فون کی ایسی بیٹریاں بنائی جا سکتی ہیں جو منٹوں میں چارج ہوں گی اور ہفتوں تک چلیں گی۔





برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے سلیکون کے ایسے آلات بنائے ہیں جن سے فوری طور پر بیٹری کو چارج کیا جاسکتا ہے۔ٹینیسی کی ونڈربلٹ یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے سائنسدانوں نے سُپر کیپسیٹر زکے سائز اور اس پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے متعددتجربات کیے ہیں۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ موجودہ بیٹریوں کے مقابلے یہ بیٹریاں نسبتاً زیادہ وقت تک موبائل فون کو توانائی مہیا کرسکے گی۔






سلیکون کے یہ حصے موجودہ چِپ پروڈکشن سسٹم میں بآسانی لگائے جا سکتے ہیں۔ان سستے سُپر کیپسیٹر زسے دوبارہ قابِل استعمال توانائی کے وسائل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔کاربن سے بنائے گئے سُپر کیپسیٹر کو پہلے ہی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنز میں توانائی سٹور کرنے کے نظام کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔


ٹیکنالوجی اور ہمارے سماجی رویے







لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔




لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔






ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:


آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔




(مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)


نوکیا کل ابو ظہبی میں چھ نئی ڈیوائسز متعارف کروائے گا














نوکیا کی جانب سے صارفین کے لئے چھ نئی ڈیوائسز کل 22 اکتوبر کو متعارف کروائی جارہی ہے۔ نوکیا ،کل ابو ظہبی میں نوکیا ورلڈ نامی ایک تقریب کا انعقاد کرنے جارہا ہے جس میں ان ڈیوائسز کی رونمائی کی جائے گی۔ مائیکروسافٹ اور نوکیا کے درمیان ہونے والی حالیہ اشتراک کے بعد نوکیا کی یہ تقریب خصوصی اہمیت کی حامل ہوگی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ نوکیا کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر سٹیفن ایلوپ ، مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے اس تقریب کی میزبانی کریں گے۔




انٹرنیٹ پر جاری خبروں کے مطابق نوکیااس تقریب میں پہلی ونڈوز آر ٹی ٹیبلیٹ لومیا 2520 اور 6 انچ سکرین کا حامل نیا سمارٹ فون لومیا 1520 فیبلیٹ متعارف کروائےگا۔ ساتھ ہی ساتھ نوکیا دیگرچار نئے گیجٹس بھی متعارف کروائے گا۔ 




نئی ٹیکنالوجی، سمارٹ فون اور ٹبلیٹس کے حوالے سے خبریں لیک کرنے والے ایک مستند نام evleaks نے آج ٹویٹر پر Moroleaks حوالے سے آئی پوڈ شفل سے ملتی جلتی ایک میوزک ڈیوائس کی تصویر لیک کی ہے۔ اس ڈیوائس میں بلیوٹوتھ اور این ایف سی موجود ہے تاہم اس کے بارے میں مزید کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔







پاکستانی وقت کے مطابق کل دوپہر 12 بجے یہ تقریب ابو ظہبی میں شروع ہوگی۔ انٹرنیٹ پر یہ تقریب براہ راست conversations.nokia.com پر دیکھی جاسکتی ہے۔ نوکیا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ شاید کمپنی عنقریب موبائل اور ٹیبلیٹس کے بعد لیپ ٹاپ بھی متعارف کروائے۔


مائیکرو سافٹ نے ونڈوز کا نیا ورژن ریلیز کر دیا







مائکروسافٹ نے آج اپنے مشہور زمانہ آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کا نیا ورژن لانچ کر دیا ہے۔ ونڈوز 8 استعمال کرنے والے صارفین، ونڈوز8.1 کے نام سے جاری اس ورژن کو مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ سے بلکل مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس نئی اپڈیٹ میں پچھلے ورژن کی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ نئے فیچرز بھی شامل کئے گئے ہیں۔



ونڈوز 8 کی ریلیز پر ماہرین نے اس کے یوزرانٹرفیس اور مشہور زمانہ "اسٹارٹ بٹن" کی غیر موجودگی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ونڈوز 8.1 میں "اسٹارٹ بٹن" کو ایک نئے انداز میں دوبارہ شامل کر دیا گیا ہے۔ ونڈوز کے اس نئے ورژن کا انٹرفیس ونڈوز 8 سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اس ورژن میں انٹرنیٹ ایکسپلورر11، بِنگ سرچ، سکائی ڈرائیو کنیکٹیویٹی اور سکائپ جیسے نئے فیچرز شامل کئے گئے ہیں۔



ونڈوز 8 استعمال کرنے والے صارفین کو نیا ورژن خریدنے کی ضرورت نہیں اور وہ اسے ونڈوز ایپ اسٹور سے بلکل مفت ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ دیگر صارفین کے لئے اس کی قیمت 200 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔



مائیکروسافٹ پہلے ہی یہ ورژن ہارڈوئیر شراکت داروں کو بھیج چکا ہے تاکہ وہ نئے کمپیوڑز، لیپ ٹاپس اور ٹیبلیٹس پر اسے انسٹال کر سکیں۔ نئے ورژن کی لانچنگ کے ساتھ ہی ونڈوز 8.1 کے حامل کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور ٹیبلیٹس مارکیٹ میں لانچ کردئے گئے ہیں۔





ونڈوز 8.1 کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 





کیا آئرن مین حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے؟







امریکی فوج نے سائنس و ٹیکنالوجی کے اداروں، حکومتی لیبارٹریوں اور سائنس دانوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ مشہور زمانہ فلم "آئرن مین" کی طرز پر لباس تیار کیا جا سکے۔ امریکی فوج پہلے ہی ایسے ایگزو سکیلیٹنز کے ٹیسٹ کر چکی ہے، جسے استعمال کرنے سے فوجی باآسانی زیادہ وزن لاد کر حرکت کر سکیں گے۔







امریکی ادارے لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ایگزو سکیلیٹن تجربات کے مراحل میں


ٹیکٹیکل اسالٹ لائٹ آپریٹر سوٹ (ٹیلوس) نامی اس لباس میں ایسے سنسرز نصب کئے جائیں گےجس کی مدد سے فوجیوں کے جسمانی درجۂ حرارت، دل کی دھڑکن اور ہائیڈریشن کی سطح باآسانی معلوم کی جاسکے گی۔ "آئرن مین" سیریز کی فلموں میں دکھائے گئے لباس کے مانند ٹیلوس میں بھی وسیع رینج کے نیٹ ورکس اور گوگل گلاس کی مانند پہنے جانے والے کمپیوٹر لگے ہوں گے۔ ہاتھ اور ٹانگوں کے ساتھ لگائے جانے والے ایگزو سکیلیٹنز میں ہائیڈرولک سسٹم بھی موجود ہو گا تاکہ فوجیوں کو مزید قوت مل سکے۔






امریکی فوج کے ریسرچ اور انجینئرنگ کمانڈ کے لیے سائنسی مشیر لیفٹیننٹ کرنل کارل بورجیز کا کہنا ہےکہ ہماری خواہش ہے کہ یہ آرمر سوٹ ایگزو سکیلیٹن، صحت اور توانائی کی مسلسل نگرانی اور ہتھیاروں پر مشتمل ایک جامع سسٹم پر مشتمل ہو۔ ان کے مطابق یہ ایک جدید بکتربند سوٹ ہو گا، اس میں کمیونیکیشن، سینسرز، سرکٹس اور انٹینے نصب ہوں گے۔ امریکی فوج کے سارجنٹ میجر کرس فیرس کا کہنا ہے کہ ایسے جدید بکتر بند لباس کی تیاری اکیلے کسی ایک دارے کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے ہم نے ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ اداروں، نجی سائنسی اداروں اور حکومتی لیبارٹریوں سے اس منصوبے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ امریکی فوج چاہتی ہے کہ ٹیلوس آرمر سوٹ کو تین سال کے اندر اندر تیار کر لیا جائے۔




امریکی فوج کے مطابق، یہ عین ممکن ہے کہ میسی چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنس دان بھی اس منصوبے پر کام کریں۔ ایم آئی ٹی کی ایک ٹیم ان دنوں ایسے مائع جسمانی بکتر بند کی تیاریوں میں مصروف ہے، جسے برقی یا مقناطیسی کرنٹ دینے پر ٹھوس شکل دی جا سکے گی۔




امریکا کی نیوز ویب سائٹ این پی آر سے ایک انٹرویو میں ایم آئی ٹی کے پروفیسر گیرتھ مک کینلی نے مستقبل کے آرمر لباس کا موازنہ ہالی وڈ کی فلموں میں دکھائے جانے والے لباسوں سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بالکل آئرن مین جیسے لباس ہوں گے۔


کیا ڈیجیٹل دماغ تیار ہوسکے گا؟







یورپی یونین نے ایک ارب پونڈ کی لاگت سے ایک پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے تاکہ انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ ہیومن برین پراجیکٹ (ایچ بی پی) نامی منصوبے میں یورپی ممالک کے 135 سائنسی اداروں میں کام کرنے والے سائنسدان حصہ لے رہے ہیں۔ 





برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس منصوبے میں سائنسدان ایسی کمپیوٹر سمولیشن تیار کرنے کی کوشش کریں گے جس سے انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔



سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ ایک ارب سے زیادہ نیوران اور سو کھرب سے زیادہ لونیا جوڑوں پر مشتمل ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پروفیسر ہنری مارکرم کے مطابق اس منصوبے کا مقصد انسانی دماغ کے بارے میں تمام معلومات کو اکھٹا کر کے ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا قیام ہے جس کے تحت دماغ کے بارے سمولیشن بن سکیں۔ انہوں نے کہا اس پراجیکٹ کے مقاصد میں یہ بھی شامہ ہے کہ دماغی بیماریوں کا کیسا پتا چلا جائے اور انسانی ذہن کو سمجھ کر کیسے ایک نیا ڈیجیٹل دماغ تیار کیا جائے؟



سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ موجودہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی انسانی ذہن کے پیچیدہ گوشوں کی مکمل سمولیشن تیار کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انسانی ذہن کو سمجھنے کے اس منصوبے کا انسانی جینوم پراجیکٹ کے ساتھ موازانہ کیا جا رہا ہے۔ ایک عشرے تک جاری رہنے والے انسانی جینوم پراجیکٹ میں ہزاروں سائنسدانوں نے حصہ لیا تھا اور اس منصوبے میں انسانی جینیٹک کوڈ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس منصوبے پر اربوں ڈالر کے اخراجات آئے تھے۔



سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے بعد سائنسدان انسانی دماغ اور ڈیجیٹل دماغ کا موازانہ کر کے انسانی دماغ کی بیماریوں کا پتہ چلایا جا سکے گا۔


اب کھانے "پرنٹ" کئے جائیں گے










امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے 3D پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی 3D پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانے سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک 3D پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔





اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔