Select Menu

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Dilchasp

Tanz-o-Mazah

Misc

Technology

یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔۔







ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔




قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔!"




بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔۔۔۔  کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔





اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پر اور سلطنت پر تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!


بیٹیاں! ان کی قدر کرو، یہ آبگینے بڑے نازک ہیں








وہ بیٹیاں تم جس کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دو،وہ اُف کئے بغیرتمہاری پگڑیوں اور داڑھیوں کی لاج رکھنے کے لئے ان کے ساتھ ہو لیتی ہیں ،سسرال میں جب میکے کی یاد آتی ہے تو چھپ چھپ کر رو لیتی ہیں،کبھی دھوئیں کے بہانے آنسو بہا کر جی ہلکا کر لیا ،آٹا گوندھتے ہوئے آنسو بہتے ہیں وہ آٹے میں جذب ہو جاتے ہیں ،کوئی نہیں جانتا کہ ان روٹیوں میں اس بیٹی کے آنسو بھی شامل ہیں،غیرت مندو! ان کی قدر کرو یہ آبگینے بڑے نازک ہیں۔





 مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری


اخبارات کی تاریخ








اخبار,خبروں کی ترسیل کا ایک بہت پرانا ذریعہ ہے۔ زمانہ قدیم سے انسان مختلف طریقوں سے خبروں کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام سے ہزاروں سال قبل انسان مختلف ذرائع سے اطلاعات کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ ان میں دھویں کے ذریعہ، ڈھول، نقارے یا ناقوس کی آواز کے ذرائع شامل تھے۔ انہیں کے ذریعے انسان اطلاعات کی ترسیل کرکے دُشمنوں سے بچنے کی تدا بیر کیا کرتا تھا۔



دُنیا میں پہلا اَخبار کب اور کہاں شائع ہوا یہ وثوق سے کہنا تو نہایت مشکل ہے تاہم اخبارات کی عالمی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم روم میں جولیس سیزر کے عہد میں سرکاری اعلانات کے بلیٹن ’ایکٹا ڈیورنا ‘کے نام سے شائع کیے جاتے تھے۔پتھر یا دھات کی تختیوں پر اطلاعات کندہ کرکے انہیں عام جگہوں پر نصب کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح چینی حکومت نے بھی پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں اپنے درباریوں کے لیے ایک اطلاع نامہ جاری کیا تھا، جسے ’تِپاؤ‘ کہا جاتا تھا۔ چین میں ٹینگ حکمرانی کے دوران بھی ایک سرکاری اخبار ریشم کے کپڑے پر دستی تحریر سے شائع کیا جاتاتھاجسے صرف سرکاری افسران پڑھتے تھے۔








میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا






میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا

جب سب سے مشہور کھیل “چھپن چھپائی“ ، “برف پانی “ اور “اونچ نیچ“ ہوتے تھے

جب سب سے بہترین میٹھے “پولکا“ ، “پاپ کارن“ “جوبلی“ اور “میچل ٹافی“ ہوتے تھے
جب پیپسی چھ روپے کی ہوا کرتے تھی

جب ہم ساڑھے سات بجے اسکول جانے سے پہلے پی ٹی وی پر کارٹون دیکھتے تھے

اور

شام سات بجے “ننجا ٹرٹلز“ اور “کیپٹن پلینٹ“ دیکھتے تھے

جب ہمیں موویز دیکھنے کی اجازت نہ ہوتی تھی اور ہم پھر بھی کسی طرح مینج کر لیتے تھے

جب ہمارا بہترین اثاثہ “ببل گمرز شوز“ ہوتے تھے

جب پچاس روپے عیدی ملنے کا مطلب ہوتا تھا کہ آپ امیر ہو گئے ہو

جب ہم “ اکڑ بکڑ بمبے بو “ سے فیصلے کیا کرتے تھے

جب ہمارے لیے سب سے خوفناک چیزیں “انجیکشنز“ ، “تاریک کمرے“ اور “قاری صاحب“ ہوا کرتے تھے

جب “ ونڈر بریڈ کی بی ایم ایکس سائیکل “ پورے محلے میں جیلسی کا سبب ہوتی تھی

جب کرکٹ کھیلتے ہوئے اصول ہوا کرتا تھا کہ گھر میں جانا آئوٹ ہے اور جو مارے گا وہی لے کر آئے گا

بچگانہ لیکن بہترین یادیں

نئی نسل یہ چیزیں کبھی انجوائے نہیں کرے گی

(خوبصورت یادیں - اجد تاج)


ٹیکنالوجی اور ہمارے سماجی رویے







لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔




لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔






ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:


آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔




(مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)


ایک باز اور مرغ کا مکالمہ








ایک جگہ پہ ایک باز اور ایک مرغ اکٹھے بیٹھے تھے۔ باز مرغ سے کہنے لگا کہ میں نے تیرے جیسا بے وفا پرندہ نہیں دیکھا۔ تو ایک انڈے میں بند تھا۔ تیرے مالک نے اس وقت سے تیری حفاظت اور خاطر خدمت کی، تجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا۔ جب تو چوزہ تھا تو تجھے اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایا اور اب تو اسی مالک سے بھاگا پھرتا ہے۔

مجھے دیکھ، میں آزاد پرندہ تھا، میرے مالک نے مجھے پکڑا تو سخت قیدو بند میں بھوکا پیاسا رہا، مالک نے بہت سختیاں کیں لیکن جب بھی مالک شکار کے پیچھے چھوڑتا ہے تو شکار کو پکڑ کر اسی مالک کے پاس ہی لاتا ہوں۔

مرغ کہنے لگا۔ "تیرا اندازِ بیان شاندار ہے اور تیری دلیل میں بہت وزنی لگتی ہے، لیکن اگر تو دو باز بھی سیخ پہ ٹنگے ہوئے دیکھ لے تو تیری دلیل دھری کی دھری رہ جائے اور کبھی لوٹ کر مالک کے پاس واپس نہ آئے۔"


طبیب کی نصیحتیں







حجاج بن یوسف نے اپنے دور کے مشہور طبیب سے فرمائش کی کہ اسے طب کی کچھ اچھی اچھی باتیں بتائے۔



اُس مشہور طبیب نے کہا:




  1. گوشت صرف جوان جانور کا کھاؤ۔

  2. جب دوپہر کا کھانا کھاؤ تو تھوڑا ٹائم سو جاؤ اور شام کا کھانا کھا کر چلو، چاہیے تمہیں کانٹوں پر چلنا پڑے۔

  3. جب تک پیٹ کی پہلی غذا ہضم نہ کر لو دوسرا کھانا نہ کھاؤ، بھلے تمہیں تین دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔

  4. جب تک بیت الخلاء نہ جاؤ، سونے کے لئے مت لیٹو۔

  5. پھلوں کے نئے موسم میں پھل کھاؤ، جب موسم جانے لگے تو پھل کھانا چھوڑ دو۔

  6. کھانا کھا کر پانی پینے سے بہتر ہے کہ زہر پی لو یا پھر کھانا ہی نا کھاؤ۔



اکبر بادشاہ







آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہو گا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔











اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور تاج و تخت اسے مل گیا۔



ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے۔ ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہو جایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔



(اقتباس: ابنِ انشاء کے مضامین)