Select Menu

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Dilchasp

Tanz-o-Mazah

Misc

Technology

ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو











ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو

جیسے جنگل میں رنگ و بُو لوگو



ساعتِ چند کے مسافر سے

کوئی دم اور گفتگو لوگو



تھے تمہاری طرح کبھی ہم لوگ

گھر ہمارے بھی تھے کبھو لوگو



ایک منزل سے ہو کے آئے ہیں

ایک منزل ہے رُوبُرو لوگو



وقت ہوتا تو آرزو کرتے

جانے کس شے کی آرزو لوگو



تاب ہوتی تو جتسجُو کرتے

اب تو مایوس جستجُو لوگو



(ابنِ انشا)


خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے











خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو



یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو



یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے

اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو



گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں

کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو



خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن

اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو



ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال

کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو



خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو



(احمد ندیم قاسمی​)


چل انشاء اپنے گاؤں میں






چل انشاء اپنے گاؤں میں
یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت

پر اصلی کم، بہرُوپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا

جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟

یہاں ہر اِک بات نرالی ہے
اِس دیس بسیرا مت کرنا

یہاں مُفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
جہاں سچے رشتے یاریوں کے

جہاں گُھونگھٹ زیور ناریوں کے
جہاں جھرنے کومل سُکھ والے

جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں





(ابن انشاء)